Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کیا کیا ہم نے رنج اٹھائے کیا کیا ہم بھی شکیبا تھے

کیا کیا ہم نے رنج اٹھائے کیا کیا ہم بھی شکیبا تھے دو دن جوں توں جیتے رہے سو مرنے ہی کے مہیا تھے عشق کیا سو باتیں بنائیں یعنی شعر شعار ہوا بیتیں جو وے مشہور ہوئیں تو شہروں شہروں رسوا تھے کیا پگڑی کو پھیر کے رکھتے کیا سر نیچے نہ ہوتا تھا لطف نہیں اب کیا کہیے کچھ آگے ہم بھی کیا کیا تھے اب کے وصال قرار دیا ہے ہجر ہی کی سی حالت ہے ایک سمیں میں دل بے جا تھا تو بھی ہم وے یک جا تھے کیا ہوتا جو پاس اپنے اے میر کبھو وے آجاتے عاشق تھے درویش تھے آخر بیکس بھی تھے تنہا تھے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR