Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جب سے ستارہ صبح کا نکلا تب سے آنسو جھمکا ہے

جب سے ستارہ صبح کا نکلا تب سے آنسو جھمکا ہے دل تڑپا جو اس مہ رو بن سر کو ہمارے دھمکا ہے آمد ورفت دم کے اوپر ہم نے بناے زیست رکھی دم سو ہوا ہے آوے نہ آوے کس کو بھروسا دم کا ہے گہ صوفی چل میخانے میں لطف نہیں اب مسجد میں ابر ہے باراں بائو ہے نرمک رنگ بدن میں جھمکا ہے کیا امید رہائی رکھے ہم سا رفتہ وارفتہ دل اپنا تو زنجیری اس زلف خم در خم کا ہے دل کی نہیں بیماری ایسی جس میں ہو امیدبہی کیا سنبھلے گا میر ستم کش وہ تو مارا غم کا ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR