Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ہوتی نہیں تسلی دل گلستاں سے بھی

ہوتی نہیں تسلی دل گلستاں سے بھی تسکیں نہیں ہے جان کو آب رواں سے بھی تا یہ گرفتہ وا ہو کہاں لے کے جائیے آئے ہیں اس کی غنچگی میں تنگ جاں سے بھی آگے تھی شوخی ہم سے کنایوں میں چپ تھے ہم مشکل ہے اب برا لگے کہنے زباں سے بھی ہر چند دست بیع جواناں ہوں میں ولے اک اعتقاد رکھتا ہوں پیرمغاں سے بھی جھنجھلاہٹ اور غصے میں ہجران یار کے جھگڑا ہمیں رہے ہے زمیں آسماں سے بھی دنیا سے درگذر کہ گذرگہ عجب ہے یہ درپیش یعنی میر ہے جانا جہاں سے بھی لشکر میں ہے مبیت اسی بات کے لیے کہتے ہیں لوگ کوچ ہے کل صبح یاں سے بھی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR