Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جنگل میں چشم کس سے بستی کی رہبری کی

جنگل میں چشم کس سے بستی کی رہبری کی صاحب ہی نے ہمارے یہ بندہ پروری کی شب سن کے شور میرا کچھ کی نہ بے دماغی اس کی گلی کے سگ نے کیا آدمی گری کی کرتے نہیں ہیں دل خوں اس رنگ سے کسو کا ہم دل شدوں کی ان نے کیا خوب دلبری کی اللہ رے کیا نمک ہے آدم کے حسن میں بھی اچھی لگی نہ ہم کو خوش صورتی پری کی ہے اپنی مہرورزی جانکاہ و دل گدازاں اس رنج میں نہیں ہے امید بہتری کی رفتار ناز کا ہے پامال ایک عالم اس خودنما نے کیسی خودرائی خودسری کی اے کاش اب نہ چھوڑے صیاد قیدیوں کو جی ہی سے مارتی ہے آزادی بے پری کی اس رشک مہ سے ہر شب ہے غیر سے لڑائی بخت سیہ نے بارے ان روزوں یاوری کی کھٹ پچریاں ہی کی ہیں صراف کے نے ہم سے پیسے دے بیروئی کی پھر لے گئے کھری کی گذرے بسان صرصر عالم سے بے تامل افسوس میر تم نے کیا سیر سرسری کی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR