Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

دنیا کی قدر کیا جو طلبگار ہو کوئی

دنیا کی قدر کیا جو طلبگار ہو کوئی کچھ چیز مال ہو تو خریدار ہو کوئی کیا ابررحمت اب کے برستا ہے لطف سے طاعت گزیں جو ہو سو گنہگار ہو کوئی کیا ضعف تن میں ہے جگر و دل دماغ بن پوچھے جو اس قشون میں سردار ہو کوئی ہم عاشقان زرد و زبون و نزار سے مت کر ادائیں ایسی کہ بیزار ہو کوئی چپکے ہیں ہم تو حیرت حالات عشق سے کریے بیاں جو واقف اسرار ہو کوئی یکساں ہوئے ہیں خاک سے پامال ہو کے ہم کیا اور اس کی راہ میں ہموار ہو کوئی وہ رہ سکے ہے دل زدہ کچھ منتظر کھڑا حیرت سے اس کے در پہ جو دیوار ہو کوئی اک نسخۂ عجیب ہے لڑکا طبیب کا کچھ غم نہیں ہے اس کو جو بیمار ہو کوئی کیا اضطراب دل سے کہے میر سرعشق یہ حال سمجھے وہ جو گرفتار ہو کوئی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR