Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

خوار پھرایا گلیوں گلیوں سر مارے دیواروں سے

خوار پھرایا گلیوں گلیوں سر مارے دیواروں سے کیا کیا ان نے سلوک کیے ہیں شہر کے عزت داروں سے دور اس سے تو اپنے بھائیں آگ لگی ہے گلستاں میں آنکھیں نہیں پڑتی ہیں گل پر سینکتے ہیں انگاروں سے شور کیا جو میں نے شبانگہ بیتابی سے دل کی بہت کہنے لگا جی تنگ آیا ان مہر و وفا کے ماروں سے وہ جو ماہ زمیں گرد اپنا دوپہری ہے ان روزوں شوق میں ہر شب حرف و سخن ہے ہم کو فلک کے تاروں سے حرف شنو ساتھ اپنے نہیں ہیں ورنہ دراے قافلہ ساں راہ میں باتیں کس کس ڈھب کی کرتے ہیں ہم یاروں سے خستہ ہو اپنا کیسا ہی کوئی پھر بھی گلے سے لگاتے ہیں وحشت ایک تمھیں کو دیکھی اپنے سینہ فگاروں سے داغ جگرداری ہیں اپنے کشتے ثبات دل کے ہیں ہم نہ گئے جاگہ سے ہرگز قیمہ ہوئے تلواروں سے حرف کی پہچان اس کو نہ تھی تو سادہ ہی کچھ اچھا تھا بات اگر مانے ہے کوئی سو سو اب تکراروں سے کوہکن و مجنوں یہ دونوں دشت و کوہ میں سرماریں شوق نہیں ملنے کا ہم کو میر ایسے آواروں سے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR