Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

سر تو بہت بکھیرا پر فائدہ کیا نہ

سر تو بہت بکھیرا پر فائدہ کیا نہ الجھائو تھا جو اس کی زلفوں سے سو گیا نہ وے زلفیں عقدہ عقدہ ہیں آفت زمانہ عقدہ ہمارے دل کا ان سے بھی کچھ کھلا نہ غنچے کے دل کی کچھ تھی واشد بہار آئی افسوس ہے کہ موسم گل کا بہت رہا نہ مرنا ہمارا اس سے کہہ دیکھیں یار جاکر حال اس کا یہ خبر بھی درہم کرے ہے یا نہ کن رس بھی حیف اس کو تھا نہ کہا تو کیا کیا قطعہ لطیفہ بذلہ شعر و غزل ترانہ بیمارعشق بے کس جیتا رہے گا کیوں کر احوال گیر کم ہو پہنچے بہم دوا نہ یوں درمیاں چمن کے لے تو گئے تھے ہم کو پر فرط بے خودی سے ہم تھے نہ درمیانہ چھو سکتے بھی نہیں ہیں ہم لپٹے بال اس کے ہیں شانہ گیر سے جو یہ لڑکے نرم شانہ وحشت چمن میں ہم کو کل صبح بیشتر تھی بے اس کے پھول گل سے جی ایک دم لگا نہ صحبت برآر اپنی لوگوں سے کیونکے ہووے معقول گو ہم اتنے وے ایسے ہرزہ چا نہ رگڑے گئے ہیں جبہے ازبسکہ راستوں کے آئینہ ہو رہا ہے وہ سنگ آستانہ ہے عینہٖ ابلنا سیلاب رود کا سا اے میر چشم تر ہے یا کوئی رودخانہ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR