Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ناز کی کوئی یہ بھی ٹھسک ہے جی کاہے کو کڑھاتے ہو

ناز کی کوئی یہ بھی ٹھسک ہے جی کاہے کو کڑھاتے ہو آتے ہو تمکین سے ایسے جیسے کہیں کو جاتے ہو غیر کی ہمراہی کی عزت جی مارے ہے عاشق کا پاس کبھو جو آتے ہو تو ساتھ اک تحفہ لاتے ہو مست نہیں پر بال ہیں بکھرے پیچ گلے میں پگڑی کے ساختہ ایسے بگڑے رہو ہو تم جیسے مدھ ماتے ہو پردہ ہم سے کر لیتے ہو جب آتے ہو مجلس میں آنکھیں سب سے ملاتے ہو کچھ ہم ہی سے شرماتے ہو سوچ نہیں یہ فقیر ہے اپنا جیب دریدہ دیوانہ ٹھوکر لگتے دامن کو کس ناز سے تم یاں آتے ہو رفتۂ عشق کسو کا یارو راہ چلے ہے کس کے کہے کون رہا ہے آپ میں یاں تم کس کے تئیں سمجھاتے ہو صبر بلا پر کرتے صاحب بیتابی کا حاصل کیا کوئی مقلب قلبوں کا ہے میر عبث گھبراتے ہو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR