Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

دیتی ہے طول بلبل کیا شورش فغاں کو

دیتی ہے طول بلبل کیا شورش فغاں کو اک نالہ حوصلے سے بس ہے وداع جاں کو میں تو نہیں پر اب تک مستانہ غنچے ہوکر کہتے ہیں مرغ گلشن سے میری داستاں کو نالاں تو ہیں مجھی سے پر وہ اثر کہاں ہے گو طائر گلستاں سیکھے مری زباں کو کیا جانیے کہ کیا کچھ پردے سے ہووے ظاہر رہتے ہیں دیکھتے ہم ہر صبح آسماں کو اس چشم سرخ پر ہے وہ ابروے کشیدہ جوں ترک مست رکھ لے سر کے تلے کماں کو میری نگاہ میں تو معدوم سب ہیں وے ہی موجود بھی نہ جانا اس راہ سے جہاں کو بعد از نماز تھے کل میخانے کے در اوپر کیا جانے میر واں سے پھر اٹھ گئے کہاں کو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR