Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کس سے مشابہ کیجے اس کو ماہ میں ویسا نور نہیں

کس سے مشابہ کیجے اس کو ماہ میں ویسا نور نہیں کیوں کر کہیے بہشتی رو ہے اس خوبی سے حور نہیں شعر ہمارے عالم کے ہر چار طرف کیا دوڑے ہیں کس وادی آبادی میں یہ حرف و سخن مشہور نہیں ہم دیکھیں تو دیکھیں اسے پھر پردہ بہتر ہے یعنی اور کریں نظارہ اس کا ہم کو یہ منظور نہیں عزت اپنی تہی دستی میں رکھ لی خدا نے ہزاروں شکر قدر ہے دست قدرت سے یاں حیف ہمیں مقدور نہیں راہ دور عدم سے آئے بستی جان کے دنیا میں سویاں گھر اوجڑ ہیں سارے اک منزل معمور نہیں عشق و جنوں سے اگرچہ تن پر ضعف و نحافت ہے لیکن وحشت گو ہو عرصۂ محشر مجنوں سے رنجور نہیں ہجراں میں بھی برسوں ہم نے میر کیا ہے پاس وفا اب جو کبھو ٹک پاس بلا لے ہم کو وہ تو دور نہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR