Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

عالم علم میں ایک تھے ہم وے حیف ہے ان کو گیان نہیں

عالم علم میں ایک تھے ہم وے حیف ہے ان کو گیان نہیں اب کہتے ہیں خلطہ کیسا جان نہیں پہچان نہیں کس امید پہ ساکن ہووے کوئی غریب شہر اس کا لطف نہیں اکرام نہیں انعام نہیں احسان نہیں ہائے لطافت جسم کی اس کے مر ہی گیا ہوں پوچھو مت جب سے تن نازک وہ دیکھا تب سے مجھ میں جان نہیں کیا باتوں سے تسلی ہو دل مشکل عشقی میری سب یار سے کہنے کہتے ہیں پر کہنا کچھ آسان نہیں شام و سحر ہم سرزدہ دامن سر بگریباں رہتے ہیں ہم کو خیال ادھر ہی کاہے ان کو ادھر کا دھیان نہیں جان کے میں تو آپ بنا ہوں ان لڑکوں میں دیوانہ عقل سے بھی بہرہ ہے مجھ کو اتنا میں نادان نہیں پائوں کو دامن محشر میں ناچاری سے ہم کھینچیں گے لائق اپنی وحشت کے اس عرصے کا میدان نہیں چاہت میں اس مایۂ جاں کی مرنے کے شائستہ ہوئے جا بھی چکی ہے دل کی ہوس اب جینے کا ارمان نہیں شور نہیں یاں سنتا کوئی میر قفس کے اسیروں کا گوش نہیں دیوار چمن کے گل کے شاید کان نہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR