Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

داغ فراق سے کیا پوچھو ہو آگ لگائی سینے میں

داغ فراق سے کیا پوچھو ہو آگ لگائی سینے میں چھاتی سے وہ مہ نہ لگا ٹک آکر اس بھی مہینے میں چاک ہوا دل ٹکڑے جگر ہے لوہو روئے آنکھوں سے عشق نے کیا کیا ظلم دکھائے دس دن کے اس جینے میں گوندھ کے گویا پتی گل کی وہ ترکیب بنائی ہے رنگ بدن کا تب دیکھو جب چولی بھیگے پسینے میں اس صورت کا ناز نہ تھا کچھ دب چلتا تھا ہم سے بھی جب تک دیکھا ان نے نہ تھا منھ خوب اپنا آئینے میں لوگوں میں اسلام کے ہو نہ شہرت اس رسوائی کی شیخ کو پھیرا گدھے چڑھاکر مکے اور مدینے میں دل نہ ٹٹولیں کاشکے اس کا سردی مہر تو ظاہر ہے پاویں اس کو گرم مبادا یار ہمارے کینے میں میر نے کیا کیا ضبط کیا ہے شوق میں اشک خونیں کو کہیے جو تقصیر ہوئی ہو اپنا لوہو پینے میں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR