Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ہم کو کہنے کے تئیں بزم میں جا دیتے ہیں

ہم کو کہنے کے تئیں بزم میں جا دیتے ہیں بیٹھنے پاتے نہیں ہم کہ اٹھا دیتے ہیں ان طیوروں سے ہوں میں بھی اگر آتی ہے صبا باغ کے چار طرف آگ لگا دیتے ہیں گرچہ ملتے ہیں خنک غیرت مہ یہ لڑکے دل جگر دونوں کو یک لخت جلا دیتے ہیں دیر رہتا ہے ہما لاش پہ غم کشتوں کی استخواں ان کے جلے کچھ تو مزہ دیتے ہیں اس شہ حسن کا اقبال کہ ظالم کے تئیں ہر طرف سینکڑوں درویش دعا دیتے ہیں دل جگر ہو گئے بیتاب غم عشق جہاں جی بھی ہم شوق کے ماروں کے دغا دیتے ہیں کیونکے اس راہ میں پا رکھیے کہ صاحب نظراں یاں سے لے واں تئیں آنکھیں ہی بچھا دیتے ہیں ملتے ہی آنکھ ملی اس کی تو پر ہم بے تہ خاک میں آپ کو فی الفور ملا دیتے ہیں طرفہ صناع ہیں اے میر یہ موزوں طبعاں بات جاتی ہے بگڑ بھی تو بنا دیتے ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR