Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

صبح ہوئی گلزار کے طائر دل کو اپنے ٹٹولیں ہیں

صبح ہوئی گلزار کے طائر دل کو اپنے ٹٹولیں ہیں یاد میں اس خود رو گل تر کی کیسے کیسے بولیں ہیں باغ میں جو ہم دیوانے سے جا نکلیں ہیں نالہ کناں غنچے ہو ہو مرغ چمن کے ساتھ ہمارے ہولیں ہیں یار ہمارا آساں کیا کچھ سینہ کشادہ ہم سے ملا خون کریں ہیں جب دل کو وے بند قبا کے کھولیں ہیں مینھ جو برسے ہے شدت سے دیکھ اندھیری کیا ہے یہ یعنی تنگ جو ہم آتے ہیں دل کو کھول کے رولیں ہیں وہ دھوبی کا کم ملتا ہے میل دل اودھر ہے بہت کوئی کہے اس سے ملتے میں تجھ کو کیا ہم دھولیں ہیں سرو تو ہے سنجیدہ لیکن پیش مصرع قد یار ناموزوں ہی نکلے ہے جب دل میں اپنے تولیں ہیں مرگ کا وقفہ اس رستے میں کیا ہے میر سمجھتے ہو ہارے ماندے راہ کے ہیں ہم لوگ کوئی دم سولیں ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR