Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ضعف دماغ سے کیا پوچھو ہو اب تو ہم میں حال نہیں

ضعف دماغ سے کیا پوچھو ہو اب تو ہم میں حال نہیں اتنا ہے کہ طپش سے دل کی سر پر وہ دھمّال نہیں گاہے گاہے اس میں ہم نے منھ اس مہ کا دیکھا تھا جیسا سال کہ پر کا گذرا ویسا بھی یہ سال نہیں بالوں میں اس کے دل الجھا تھا خوب ہوا جو تمام ہوا یعنی گیا جب پیچ سے جی ہی تب پھر کچھ جنجال نہیں ایسی متاع قلیل کے اوپر چشم نہ کھولیں اہل نظر آنکھ میں آوے جو کچھ ہووے دنیا اتنی مال نہیں سرو چماں کو سیر کیا تھا کبک خراماں دیکھ لیا اس کا سا انداز نہ پایا اس کی سی یہ چال نہیں دل تو ان میں پھنس جاتا ہے جی ڈوبے ہے دیکھ ادھر چاہ زنخ گو چاہ نہیں ہے بال اس کے گو جال نہیں کب تک دل کے ٹکڑے جوڑوں میر جگر کے لختوں سے کسب نہیں ہے پارہ دوزی میں کوئی وصّال نہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR