Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

اس رنگ سے جو زرد زبوں زار ہیں ہم لوگ

اس رنگ سے جو زرد زبوں زار ہیں ہم لوگ دل کے مرض عشق سے بیمار ہیں ہم لوگ کیا اپنے تئیں پستی بلندی سے جہاں کی اب خاک برابر ہوئے ہموار ہیں ہم لوگ مقصود تو حاصل ہے طلب شرط پڑی ہے وہ مطلب عمدہ ہے طلبگار ہیں ہم لوگ خوں ریز ہی لڑکوں سے لڑا رہتے ہیں آنکھیں گر قتل کریں ہم کو سزاوار ہیں ہم لوگ دل پھنس رہے ہیں دام میں زلفوں کے کسو کی تنگ اپنے جیوں سے ہیں گرفتار ہیں ہم لوگ بازار کی بھی جنس پہ جی دیتے ہیں عاشق سر بیچتے پھرتے ہیں خریدار ہیں ہم لوگ ان پریوں سے لڑکوں ہی کے جھپٹے میں دل آئے بے ہوش و خرد جیسے پریدار ہیں ہم لوگ در پر کسو کے جا کے کھڑے ہوں تو کھڑے ہیں حیرت زدئہ عشق ہیں دیوار ہیں ہم لوگ جاتے ہیں چلے قافلہ در قافلہ اس راہ چلنے میں تردد نہیں تیار ہیں ہم لوگ مارے ہی پڑیں کچھ کہیں عشاق تو شاید حیرت سے ہیں چپ تس پہ گنہگار ہیں ہم لوگ گو نیچی نظر میر کی ہو آنکھیں تو ٹک دیکھ کیا دل زدگاں سادہ میں پرکار ہیں ہم لوگ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR