Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

رہا پھول سا یار نزہت سے اب تک

رہا پھول سا یار نزہت سے اب تک نہ ایسا کھلا گل نزاکت سے اب تک لبالب ہے وہ حسن معنی سے سارا نہ دیکھا کوئی ایسی صورت سے اب تک سلیماں ؑ سکندر کہ شاہان دیگر نہ رونق گئی کس کی دولت سے اب تک کرم کیا صفت ہے نہ ہوں گو کریماں سخن کرتے ہیں ان کی ہمت سے اب تک سبب مرگ فرہاد کا ہو گیا تھا نگوں ہے سرتیشہ خجلت سے اب تک ہلا تو بھی لب کو کہ عیسیٰ ؑکے دم کی چلی جائے ہے بات مدت سے اب تک عقیق لب اس کے کبھو دیکھے تھے میں بھرا ہے دہن آب حسرت سے اب تک گئی عمر ساری مجھے عجز کرتے نہ مانی کوئی ان نے منت سے اب تک نہ ہو گو جنوں میرجی کو پر ان کی طبیعت ہے آشفتہ وحشت سے اب تک

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR