Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

مرتے ہیں ہم تو آدم خاکی کی شان پر

مرتے ہیں ہم تو آدم خاکی کی شان پر اللہ رے دماغ کہ ہے آسمان پر چرکہ تھا دل میں لالہ رخوں کے خیال سے کیا کیا بہاریں دیکھی گئیں اس مکان پر عرصہ ہے تنگ صدر نشینوں پہ شکر ہے بیٹھے اگر تو جا کے کسو آستان پر آفات میں ہے مرغ چمن گل کے شوق سے جوکھوں ہزار رنگ کی رہتی ہے جان پر اس کام جاں کے جلووں کا میں ہی نہیں ہلاک آفت عجب طرح کی ہے سارے جہان پر جاتے تو ہیں پہ خواہش دل موت ہے نری پھر بھی ہمیں نظر نہیں جی کے زیان پر تقدیس دل تو دیکھ ہوئی جس کو اس سے راہ سر دیں ہیں لوگ اس کے قدم کے نشان پر انداز و ناز اپنے اس اوباش کے ہیں قہر سو سو جوان مرتے ہیں ایک ایک آن پر شوخی تو دیکھو آپھی کہا آئو بیٹھو میر پوچھا کہاں تو بولے کہ میری زبان پر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR