Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کیا ہم بیاں کسو سے کریں اپنے ہاں کی طرح

کیا ہم بیاں کسو سے کریں اپنے ہاں کی طرح کی عشق نے خرابی سے اس خانداں کی طرح جوں سبزہ چل چمن میں لب جو پہ سیر کر عمر عزیز جاتی ہے آب رواں کی طرح جو سقف بے عمد ہو نہیں اس کا اعتماد کس خانماں خراب نے کی آسماں کی طرح اثبات بے ثباتی ہوا ہوتا آگے تو کیوں اس چمن میں ڈالتے ہم آشیاں کی طرح اب کہتے ہیں بلا ہے ستم کش یہ پیرگی قد جو ہوا خمیدہ ہمارا کماں کی طرح نقصان جاں صریح تھا سودے میں عشق کے ہم جان کر نکالی ہے جی کے زیاں کی طرح دل کو جو خوب دیکھا تو ہو کا مکان ہے ہے اس مکاں میں ساری وہی لامکاں کی طرح کل دیکھ آفتاب کو رویا ہوں دیر تک غصے میں ایسی ہی تھی مرے مہرباں کی طرح جاوے گا اپنی بھول طرح داری میر وہ کچھ اور ہو گئی جو کسو ناتواں کی طرح

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR