Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

دل کو کہیں لگنے دو میرے کیا کیا رنگ دکھائوں گا

دل کو کہیں لگنے دو میرے کیا کیا رنگ دکھائوں گا چہرے سے خونناب ملوں گا پھولوں سے گل کھائوں گا عہد کیے جائوں ہوں اب کے آخر مجھ کو غیرت ہے تو بھی منانے آوے گا تو ساتھ نہ تیرے جائوں گا گرچہ نصیحت سب ضائع ہے لیکن خاطر ناصح کی دل دیوانہ کیا سمجھے گا اور بھی میں سمجھائوں گا جھک کے سلام کسو کو کرنا سجدہ ہی ہوجاتا ہے سر جاوے گو اس میں میرا سر نہ فرو میں لائوں گا سر ہی سے سر واہ یہ سب ہے ہجر کی اس کے کلفت میں سر کو کاٹ کے ہاتھ پہ رکھے آپھی ملنے جائوں گا خاک ملا منھ خون آنکھوں میں چاک گریباں تا دامن صورت حال اب اپنی اس کے خاطرخواہ بنائوں گا دل کے تئیں اس راہ میں کھو افسوس کناں اب پھرتا ہوں یعنی رفیق شفیق پھر ایسے میر کہاں میں پائوں گا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR