Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جان اپنا جو ہم نے مارا تھا

جان اپنا جو ہم نے مارا تھا کچھ ہمارا اسی میں وارا تھا کون لیتا تھا نام مجنوں کا جب کہ عہد جنوں ہمارا تھا کوہ فرہاد سے کہیں آگے سر مرا اور سنگ خارا تھا ہم تو تھے محو دوستی اس کے گوکہ دشمن جہان سارا تھا لطف سے پوچھتا تھا ہر کوئی جب تلک لطف کچھ تمھارا تھا آستاں کی کسو کے خاک ہوا آسماں کا بھی کیا ستارہ تھا پائوں چھاتی پہ میری رکھ چلتا یاں کبھو اس کا یوں گذارا تھا موسم گل میں ہم نہ چھوٹے حیف گشت تھا دید تھا نظارہ تھا اس کی ابرو جو ٹک جھکی ایدھر قتل کا تیغ سے اشارہ تھا عشق بازی میں کیا موئے ہیں میر آگے ہی جی انھوں نے ہارا تھا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR