Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

شاید جگر حرارت عشقی سے جل گیا

شاید جگر حرارت عشقی سے جل گیا کل درد دل کہا سو مرا منھ ابل گیا بے یار حیف باغ میں دل ٹک بہل گیا دے گل کو آگ چار طرف میں نہ جل گیا اس آہوے رمیدہ کی شوخی کہیں سو کیا دکھلائی دے گیا تو چھلاوا سا چھل گیا دن رات خوں کیا ہی کیے ہم جگر کو پھر گر پھول گل سے کوئی گھڑی جی بہل گیا تیور بدلنے سے تو نہیں اس کے بے حواس اندیشہ یہ ہے طور ہی اس کا بدل گیا ہرچند میں نے شوق کو پنہاں کیا ولے ایک آدھ حرف پیار کا منھ سے نکل گیا کرتے ہیں نذر ہم کہ نہ الفت کریں کہیں گر دل ضعیف اب کے ہمارا سنبھل گیا چلنے لگے تھے راہ طلب پر ہزار شکر پہلے قدم ہی پائوں ہمارا بچل گیا میں دہ دلا تو آگے ہی تھا فرط شوق سے طور اس کا دیکھ اور بھی کچھ دل دہل گیا سر اب لگے جھکانے بہت خاک کی طرف شاید کہ میرجی کا دماغی خلل گیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR