Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

مستانہ اگرچہ میں طاعت کو لگا جاتا

مستانہ اگرچہ میں طاعت کو لگا جاتا پر بعد نماز اٹھ کر میخانہ چلا جاتا بازار میں ہو جانا اس مہ کا تماشا تھا یوسفؑ بھی جو واں ہوتا تو اس پہ بکا جاتا دیکھا نہ ادھر ورنہ آتا نہ نظر پھر میں جی مفت مرا جاتا اس شوخ کا کیا جاتا شب آہ شرر افشاں ہونٹوں سے پھری میرے سر کھینچتا یہ شعلہ تو مجھ کو جلا جاتا کیا شوق کی باتوں کی تحریر ہوئی مشکل تھے جمع قلم کاغذ پر کچھ نہ لکھا جاتا آنکھیں مری کھلتیں تو اس چہرے ہی پر پڑتیں کیا ہوتا یکایک وہ سر پر مرے آجاتا سبزے کا ہوا روکش خط رخ جاناں کے جو ہاتھ مرے چڑھتا تو پان کو کھا جاتا ہے شوق سیہ رو سے بدنامی و رسوائی کیوں کام بگڑ جاتا جو صبر کیا جاتا تھا میر بھی دیوانہ پر ساتھ ظرافت کے ہم سلسلہ داروں کی زنجیر ہلا جاتا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR