Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

قصہ کہیں تو کیا کہیں ملنے کی رات کا

قصہ کہیں تو کیا کہیں ملنے کی رات کا پہروں چوائو ان نے رکھا بات بات کا جرأت سے گرچہ زرد ہوں پر مانتا ہے کون منھ لال جب تلک نہ کروں پانچ سات کا کیونکر بسر کرے غم و غصہ میں ہجر کے خوگر جو ہو کسو کے کوئی التفات کا جاگہ سے لے گیا ہمیں اس کا خرام ناز ٹھہرائو ہوسکا نہ قرار و ثبات کا ڈرتا ہوں مالکان جزا چھاتی دیکھ کر کہنے لگیں نہ واہ رے زخم اس کے ہاتھ کا واعظ کہے سو سچ ہے ولے مے فروش سے ہم ذکر بھی سنا نہیں صوم و صلوٰت کا بھونکا کریں رقیب پڑے کوے یار میں کس کے تئیں دماغ عفف ہے سگات کا ان ہونٹوں کا حریف ہو ظلمات میں گیا پردے میں رو سیاہ ہے آب حیات کا عالم کسو حکیم کا باندھا طلسم ہے کچھ ہو تو اعتبار بھی ہو کائنات کا گر یار میر اہل ہے تو کام سہل ہے اندیشہ تجھ کو یوں ہی ہے اپنی نجات کا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR