Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

شوریدہ سر رکھا ہے جب سے اس آستاں پر

شوریدہ سر رکھا ہے جب سے اس آستاں پر میرا دماغ تب سے ہے ہفتم آسماں پر گھائل گرا رہا ہے فتراک سے بندھا ہے کیا کیا ستم ہوئے ہیں اس صید ناتواں پر لطف بدن کو اس کے ہرگز پہنچ سکے نہ جا پڑتی تھی ہمیشہ اپنی نگاہ جاں پر خاشاک و خار و خس کو کر ایک جا جلایا کیا چشم شور برق خاطف تھی آشیاں پر وہ باغباں پسر کچھ گل گل شگفتہ ہے اب یہ اور گل کھلا ہے اک پھولوں کی دکاں پر پرکالے آگ کے تھے کیا نالہ ہاے بلبل شبنم سے آبلے ہیں گل برگ سی زباں پر دل کیا مکاں پھر اس کا کیا صحن میر لیکن غالب ہے سعی میں تو میدان لامکاں پر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR