Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

سنا تم نے جو گذرا سانحہ ہجراں میں یاروں پر

سنا تم نے جو گذرا سانحہ ہجراں میں یاروں پر قیامت غم سے ہر ساعت رہی الفت کے ماروں پر کیا ہے عشق عالم کش نے کیا ستھراؤ لوگوں کا نکل چل شہر سے باہر نظر کر ٹک مزاروں پر تڑپ کر گرم ٹک جوں برق ٹھنڈے ہوتے جاتے ہیں بسان ابر رحمت رو بہت ہم بے قراروں پر بڑی دولت ہے درویشی جو ہمرہ ہو قناعت کے کہ عرصہ تنگ ہے حرص و ہوا سے تاجداروں پر سیاحت خوب مجھ کو یاد ہے پر کی بھی وحشت کی پر اپنا پاؤں پھیلے دشت کے سر تیز خاروں پر گئے فرہاد و مجنوں ہو کوئی تو بات بھی پوچھیں یکایک کیا بلا آئی ہمارے غم گساروں پر گئی اس ناتوان عشق کے آگے سے پیری ٹل سبک روحی مری اے میر بھاری ہے ہزاروں پر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR