Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

روزوں میں رہ سکیں گے ہم بے شراب کیونکر

روزوں میں رہ سکیں گے ہم بے شراب کیونکر گذرے گا اتقا میں عہد شباب کیونکر تھوڑے سے پانی میں بھی چل نکلے ہے اپھرتا بے تہ ہے سر نہ کھینچے اک دم حباب کیونکر چشمے بحیرے اب تک ہیں یادگار اس کے وہ سوکھ سب گئی ہے چشم پرآب کیونکر دل کی طرف کا پہلو سب متصل جلے ہے مخمل ہو فرش کیوں نہ آوے گی خواب کیونکر اول سحور کھانا آخر صبوحی کرنا آوے نہ اس عمل سے شرم و حجاب کیونکر اجڑے نگر کو دل کے دیکھوں ہوں جب کہوں ہوں اب پھر بسے گی ایسی بستی خراب کیونکر جرم و ذنوب تو ہیں بے حد و حصر یارب روزحساب لیں گے مجھ سے حساب کیونکر پیش از سحر اٹھے ہے آج اس کے منھ کا پردہ نکلے گا اس طرف سے اب آفتاب کیونکر خط میر آوے جاوے جو نکلے راہ ادھر کی نبھتا نہیں ہے قاصد لاوے جواب کیونکر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR