Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ٹیڑھی نگاہیں کیا کرتے ہو دم بھر کے یاں آنے پر

ٹیڑھی نگاہیں کیا کرتے ہو دم بھر کے یاں آنے پر ایدھر دیکھو ہم نے نہیں کی خم ابرو مر جانے پر زور ہوا ہے چل صوفی ٹک تو بھی رباط کہنہ سے ابر قبلہ بڑھتا بڑھتا آیا ہے میخانے پر گل کھائے بے تہ بلبل نے شور قیامت کا سا کیا دیکھ چمن میں اس بن میرے چپکے جی بہلانے پر سر نیچے کر لیتا تھا تلوار چلاتے ہم پر وے ریجھ گئے خوں ریزی میں اپنی اس کے پھر شرمانے پر گالی مار کے غم پر میں نے صبر کیا خاموش رہا رحم نہ آیا ٹک ظالم کو اس میرے غم کھانے پر نادیدہ ہیں نام خدا کے ایسے جیسے قحط زدہ دوڑتی ہیں کیا آنکھیں اپنی سبحے کے دانے دانے پر حال پریشاں سن مجنوں کا کیا جلتا ہے جی اپنا عاشق ہم بھی میر رہے ہیں اس ڈھب کے دیوانے پر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR