Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کئی داغ ایسے جلائے جگر پر

کئی داغ ایسے جلائے جگر پر کہ وے نرگسی زن تھے گلہاے تر پر گیا میری وادی سے سیلاب بچ کر نظر یاں جو کی عشق کے شیرنر پر سر رہ سے اس کے موئے ہی اٹھیں گے یہ جی جا رہا ہے اسی رہگذر پر سر اس آستاں پر رگڑتے گئے ہیں ہوئے خون یاروں کے اس خاک در پر ہم آتا اسے سن کے جیتوں میں آئے بنا زندگانی کی ہے اب خبر پر اسے لطف اس کا ہی لاوے تو لاوے نہیں وصل موقوف کچھ زور و زر پر سرکتے نہیں شوق کشتوں کے سر بن قیامت سا ہنگامہ ہے اس کے در پر اتر جو گیا دل سے روکش ہو اس کا چڑھا پھر نہ خورشید میری نظر پر بھری تھی مگر آگ دل میں دروں میں ہوئے اشک سوزش سے اس کی شرر پر گیا پی جو ان آنسوئوں کے تئیں میں سراسر ہیں اب داغ سطح جگر پر سرعجز ہر شام تھا خاک پر ہی تہ دل تھی کیسی ہی آہ سحر پر پلک اٹھے آثار اچھے نہ دیکھے پڑی آنکھ ہرگز نہ روے اثر پر طرف شاخ گل کی لچک کے نہ دیکھا نظر میر کی تھی کسو کی کمر پر غزل در غزل صاحبو یہ بھی دیکھو نہیں عیب کرنا نظر اک ہنر پر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR