Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

فصل گل میں اسیر ہوئے تھے من ہی کی رہی من کے بیچ

فصل گل میں اسیر ہوئے تھے من ہی کی رہی من کے بیچ اب یہ ستم تازہ ہے ہم پر قید کیا ہے چمن کے بیچ یہ الجھائو سلجھتا ہم کو دے ہے دکھائی مشکل سا یعنی دل اٹکا ہے جاکر ان بالوں کے شکن کے بیچ وہ کرتا ہے جب زباں درازی حیرت سے ہم چپکے ہیں کچھ بولا نہیں جاتا یعنی اس کے حرف و سخن کے بیچ دشت بلا میں جاکر مریے اپنے نصیب جو سیدھے ہوں واں کی خاک عنبر کی جاگہ رکھ دیں لوگ کفن کے بیچ کبک کی جان مسافر ہووے دیکھے خرام ناز اس کا نام نہیں لیتا ہے کوئی اس کا میرے وطن کے بیچ کیا شیریں ہے حرف و حکایت حسرت ہم کو آتی ہے ہائے زبان اپنی بھی ہووے یک دم اس کے دہن کے بیچ غم و اندوہ عشقی سے ہر لحظہ نکلتی رہتی ہے جان غلط کر میر آئی ہے گویا تیرے بدن کے بیچ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR