Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

آج ہمیں بدحالی سی ہے حال نہیں ہے جان کے بیچ

آج ہمیں بدحالی سی ہے حال نہیں ہے جان کے بیچ کیا عاشق ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے جہان کے بیچ پایہ اس کی شہادت کا ہے عرش عظیم سے بالاتر جو مظلوم عشق موا ہے بڑھ کر ٹک میدان کے بیچ یوں ہی نظر چڑھ رہتی نہیں کچھ حسرت میں تو چشم سفید دیکھی ہے ہیرے کی دمک میں اس چشم حیران کے بیچ وہ پرکالہ آتش کا ہے صبح تلک بھڑکا بھی نہ تھا کیا جانوں کیا پھونک دیا لوگوں نے اس کے کان کے بیچ وعدے کرو ہو برسوں کے تم دم کا بھروسا ہم کو نہیں کچھ کا کچھ ہوجاتا ہے یاں اک پل میں اک آن کے بیچ تبعیّت سے جو فارسی کی میں نے ہندی شعر کہے سارے ترک بچے ظالم اب پڑھتے ہیں ایران کے بیچ بندے خداے پاک کے ہم جو میر نہیں تو زیر فلک پھر یہ تقدس آیا کہاں سے مشت خاک انسان کے بیچ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR