Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کہوں سو کیا کہوں نے صبر نے قرار ہے آج

کہوں سو کیا کہوں نے صبر نے قرار ہے آج جو اس چمن میں یہ اک طرفہ انتشار ہے آج سر اپنا عشق میں ہم نے بھی یوں تو پھوڑا تھا پر اس کو کیا کریں اوروں کا اعتبار ہے آج گیا ہے جانب وادی سوار ہوکر یار غبار گرد پھرے ہے بہت شکار ہے آج جہاں کے لوگوں میں جس کی تھی کل تئیں عزت اسی عزیز کو دیکھا ذلیل و خوار ہے آج سحر سواد میں چل زور پھولی ہے سرسوں ہوا ہے عشق سے کل زرد کیا بہار ہے آج سواری اس کی ہے سرگرم گشت دشت مگر کہ خیرہ تیرہ نمودار یک غبار ہے آج سپہر چھڑیوں میں کل تک پھرے تھا ساتھ اپنے عجب ہے سب کا اسی سفلے پر مدار ہے آج بخار دل کا نکالا تھا درد دل کہہ کر سو درد سر ہے بدن گرم ہے بخار ہے آج کسو کے آنے سے کیا اب کہ غش ہے کل دن سے ہمیں تو اپنا ہی اے میر انتظار ہے آج

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR