Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

دل تڑپے ہے جان کھپے ہے حال جگر کا کیا ہو گا

دل تڑپے ہے جان کھپے ہے حال جگر کا کیا ہو گا مجنوں مجنوں لوگ کہے ہیں مجنوں کیا ہم سا ہو گا دیدئہ تر کو سمجھ کر اپنا ہم نے کیا کیا حفاظت کی آہ نہ جانا روتے روتے یہ چشمہ دریا ہو گا کیا جانیں آشفتہ دلاں کچھ ان سے ہم کو بحث نہیں وہ جانے گا حال ہمارا جس کا دل بیجا ہو گا پائوں حنائی اس کے لے آنکھوں پر اپنی ہم نے رکھے یہ دیکھا نہ رنگ کفک پر ہنگامہ کیا برپا ہو گا جاگہ سے بے تہ جاتے ہیں دعوے وے ہی کرتے ہیں ان کو غرور و ناز نہ ہو گا جن کو کچھ آتا ہو گا روبہ بہی اب لاہی چکے ہیں ہم سے قطع امید کرو روگ لگا ہے عشق کا جس کو وہ اب کیا اچھا ہو گا دل کی لاگ کہیں جو ہو تو میر چھپائے اس کو رکھ یعنی عشق ہوا ظاہر تو لوگوں میں رسوا ہو گا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR