Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

پہلو سے اٹھ گیا ہے وہ نازنیں ہمارا

پہلو سے اٹھ گیا ہے وہ نازنیں ہمارا جز درد اب نہیں ہے پہلونشیں ہمارا ہوں کیوں نہ سبز اپنے حرف غزل کہ ہے یہ وے زرع سیرحاصل قطعہ زمیں ہمارا کیسا کیا جگر خوں آزار کیسے کھینچے آساں نہیں ہوا دل اندوہگیں ہمارا حرف و سخن تھے اپنے یا داستاں جہاں میں مذکور بھی نہیں ہے یا اب کہیں ہمارا کیا رائیگاں بتوں کو دے کر ہوئے ہیں کافر ارث پدر جو اب تھا یہ کہنہ دیں ہمارا لخت جگر بھی اپنا یاقوت ناب سا ہے قطرہ سرشک کا ہے دُرثمیں ہمارا کیا خاک میں ملایا ہم کو سپہر دوں نے ڈھونڈا نشان تربت پاتے نہیں ہمارا حالت ہے نزع کی یاں آئو کہ جاتے ہیں ہم آنکھوں میں منتظر ہے دم واپسیں ہمارا اک عمر مہر ورزی جن کے سبب سے کی تھی پاتے ہیں میر ان کو سرگرم کیں ہمارا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR