Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کیا پوچھو ہو کیا کہیے میاں دل نے بھی کیا کام کیا

کیا پوچھو ہو کیا کہیے میاں دل نے بھی کیا کام کیا عشق کیا ناکام رہا آخر کو کام تمام کیا عجز کیا سو اس مفسد نے قدر ہماری یہ کچھ کی تیوری چڑھائی غصہ کیا جب ہم نے جھک کے سلام کیا کہنے کی بھی لکھنے کی بھی ہم تو قسم کھا بیٹھے تھے آخر دل کی بیتابی سے خط بھیجا پیغام کیا عشق کی تہمت جب نہ ہوئی تھی کاہے کو شہرت ایسی تھی شہر میں اب رسوا ہیں یعنی بدنامی سے کام کیا ریگستاں میں جاکے رہیں یا سنگستاں میں ہم جوگی رات ہوئی جس جاگہ ہم کو ہم نے وہیں بسرام کیا خط و کتابت لکھنا اس کو ترک کیا تھا اس ہی لیے حرف و سخن سے ٹپکا لوہو اب جو کچھ ارقام کیا تلخ اس کا تو شہد و شکر ہے ذوق میں ہم ناکاموں کے لوگوں میں لیکن پوچ کہا یہ لطف بے ہنگام کیا جیسے کوئی جہاں سے جاوے رخصت اس حسرت سے ہوئے اس کوچے سے نکل کر ہم نے روبہ قفا ہر گام کیا میر جو ان نے منھ کو ادھر کر ہم سے کوئی بات کہی لطف کیا احسان کیا انعام کیا اکرام کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR