Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

اگر ہنستا اسے سیرچمن میں اب کے پائوں گا

اگر ہنستا اسے سیرچمن میں اب کے پائوں گا تو بلبل آشیاں تیرا ہی میں پھولوں سے چھائوں گا مجھے گل اس کے آگے خوش نہیں آتا کچھ اس پر بھی جو تو آزردہ ہوتی ہے گلستاں میں نہ آئوں گا بشارت اے صبا دیجو اسیران قفس کو بھی تسلی کو تمھاری سر پہ رکھ دو پھول لائوں گا دماغ نازبرداری نہیں ہے کم دماغی سے کہاں تک ہر گھڑی کے روٹھے کو پہروں منائوں گا خشونت بدسلوکی خشمگینی کس لیے اتنی نہ منھ کو پھیریے پھر یاں نہ آئوں گا جو جائوں گا ابھی ہوں منتظر جاتی ہے چشم شوق ہر جانب بلند اس تیغ کو ہونے تو دو سر بھی جھکائوں گا بلائیں زیر سر ہوں کاش افتادہ رہوں یوں ہی اٹھا سر خاک سے تو میر ہنگامے اٹھائوں گا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR