Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

عشق تو بن رسوائی عالم باعث ہے رسوائی کا

عشق تو بن رسوائی عالم باعث ہے رسوائی کا میل دلی اس خودسر سے ہے جو پایہ ہے خدائی کا ہے جو سیاہی جرم قمر میں اس کے سوا کچھ اور نہیں داغ ہے مہ کا آئینہ اس سطح رخ کی صفائی کا نزع میں میری حاضر تھا پر آنکھ نہ ایدھر اس کی پڑی داغ چلا ہوں اس سے جہاں میں یار کی بے پروائی کا کوشش میں سر مارا لیکن در پہ کسی کے جا نہ سکا تن پہ زبان شکر ہے ہر مو اپنی شکستہ پائی کا رنگ سراپا اس کا ہوا لے آگے دل خوں کرتی رہی اب ہے جگر یک لخت افسردہ اس کے رنگ حنائی کا آنا سن ناداری سے ہم نے جی دینا ٹھہرایا ہے کیا کہیے اندیشہ بڑا تھا اس کی منھ دکھلائی کا کوفت میں ہے ہر عضو اس کا جوں عضو از جا رفتہ میر جو کشتہ ہے ظلم رسیدہ اس کے درد جدائی کا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR