Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

اب دشت عشق میں ہیں بتنگ آئے جان سے

اب دشت عشق میں ہیں بتنگ آئے جان سے آنکھیں ہماری لگ رہی ہیں آسمان سے پڑتا ہے پھول برق سے گلزار کی طرف دھڑکے ہے جی قفس میں غم آشیان سے یک دست جوں صداے جرس بیکسی کے ساتھ میں ہر طرف گیا ہوں جدا کاروان سے تم کو تو التفات نہیں حال زار پر اب ہم ملیں گے اور کسو مہربان سے تم ہم سے صرفہ ایک نگہ کا کیا کیے اغماض ہم کو اپنے ہے جی کے زیان سے جاتے ہیں اس کی اور تو عشاق تیر سے قامت خمیدہ ان کے اگر ہیں کمان سے دلکش قد اس کا آنکھوں تلے ہی پھرا کیا صورت گئی نہ اس کی ہمارے دھیان سے آتا نہیں خیال میں خوش رو کوئی کبھو تو مار ڈالیو نہ مجھے اس گمان سے آنکھوں میں آ کے دل سے نہ ٹھہرا تو ایک دم جاتا ہے کوئی دید کے ایسے مکان سے دیں گالیاں انھیں نے وہی بے دماغ ہیں میں میر کچھ کہا نہیں اپنی زبان سے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR