Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

چرخ پر اپنا مدار دیکھیے کب تک رہے

چرخ پر اپنا مدار دیکھیے کب تک رہے ایسی طرح روزگار دیکھیے کب تک رہے سہرے کہاں تک پڑیں آنسوئوں کے چہرے پر گریہ گلے ہی کا ہار دیکھیے کب تک رہے ضعف سے آنکھیں مندیں کھل نہ گئیں پھر شتاب غش یہ ہمیں اب کی بار دیکھیے کب تک رہے لب پہ مرے آن کر بارہا پھر پھر گئی جان کو یہ اضطرار دیکھیے کب تک رہے اس سے تو عہد و قرار کچھ بھی نہیں درمیاں دل ہے مرا بے قرار دیکھیے کب تک رہے اس سرے سے اس سرے داغ ہی ہیں صدر میں ان بھی گلوں کی بہار دیکھیے کب تک رہے آنکھیں تو پتھرا گئیں تکتے ہوئے اس کی راہ شام و سحر انتظار دیکھیے کب تک رہے آنکھ ملاتا نہیں ان دنوں وہ شوخ ٹک بے مزہ ہے ہم سے یار دیکھیے کب تک رہے روے سخن سب کا ہے میری غزل کی طرف شعر ہی میرا شعار دیکھیے کب تک رہے گیسو و رخسار یار آنکھوں ہی میں پھرتے ہیں میر یہ لیل و نہار دیکھیے کب تک رہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR