Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کیا طرح ہے یاں جو آئے ہو تو شرمائے ہوئے

کیا طرح ہے یاں جو آئے ہو تو شرمائے ہوئے بات مخفی کہتے ہو غصے سے جھنجھلائے ہوئے اس مرے نوباوئہ گلزار خوبی کے حضور اور خوباں جوں خزاں کے گل ہیں مرجھائے ہوئے چھپ کے دیکھا ہمرہاں نے اس کو سو غش آگیا حیف بیخود ہو گئے ہم پھر بخود آئے ہوئے ہر زماں لے لے اٹھو ہو تیغ بیٹھا مجھ کو دیکھ آئے ہو مستانہ کس دشمن کے بہکائے ہوئے گھر میں جی لگتا نہیں اس بن تو ہم ہوکر اداس دور جاتے ہیں نکل ہجراں سے گھبرائے ہوئے ایک دن موے دراز اس کے کہیں دیکھے تھے میں ہیں گلے کے ہار اب وے بال بل کھائے ہوئے دشمنی سے سایۂ عاشق کو جو مارے ہے تیر اس کماں ابرو کے جاکر میر ہمسائے ہوئے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR