Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

آئو کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے

آئو کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے کرنا سلوک خوب ہے اہل نیاز سے پھرتے ہو کیا درختوں کے سائے میں دور دور کرلو موافقت کسو بے برگ و ساز سے ہجراں میں اس کے زندگی کرنا بھلا نہ تھا کوتاہی جو نہ ہووے یہ عمر دراز سے مانند سبحہ عقدے نہ دل کے کبھو کھلے جی اپنا کیونکے اچٹے نہ روزے نماز سے کرتا ہے چھید چھید ہمارا جگر تمام وہ دیکھنا ترا مژئہ نیم باز سے دل پر ہو اختیار تو ہرگز نہ کریے عشق پرہیز کریے اس مرض جاں گداز سے آگے بچھا کے نطع کو لاتے تھے تیغ و طشت کرتے تھے یعنی خون تو اک امتیاز سے مانع ہوں کیونکے گریۂ خونیں کے عشق میں ہے ربط خاص چشم کو افشاے راز سے شاید شراب خانے میں شب کو رہے تھے میر کھیلے تھا ایک مغبچہ مہر نماز سے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR