Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

مدت پاے چنار رہے ہیں مدت گلخن تابی کی

مدت پاے چنار رہے ہیں مدت گلخن تابی کی برسوں ہوئے ہیں گھر سے نکلے عشق نے خانہ خرابی کی مشق نوشتن جن کی رسا ہے وے بھی چپ ہیں حیرت سے نقل کروں میں خوبی خط کیا اس کے چہرے کتابی کی وہ نہیں سنتا سچی بھی میری تین میں میں ہوں نہ تیرہ میں گنتی میں کچھ ہوں تو میری قدر ہو حرف حسابی کی دیر جوانی کچھ رہتی تو اس کی جفا کا اٹھتا مزہ عمر نے میری گذر جانے میں ہائے دریغ شتابی کی جام گلوں کے خزاں میں نگوں ہیں نکہت خوش بھی چمن سے گئی مے شاید کہ تمام ہوئی ہے ہر غنچے کی گلابی کی جیتے جاگتے اب تک تو ہیں لیکن جیسے مردہ ہیں یعنی بے دم سست بہت ہیں حسرت سے بے خوابی کی اچھی ہی ہے یہ جنس وفا یاں لیک نہ پائی ہم نے کہیں داغ ہوئی ہے جان ہماری اس شے کی نایابی کی جیب و دامن تر رہتے ہیں آٹھ پہر کے رونے سے قدر نہیں ہے ہم کو ہرگز اپنے جامۂ آبی کی ننگ خلق کیا ہے ہم کو آخر دست خالی نے عالم میں اسباب کے ہے کیا شورش بے اسبابی کی عشق میر کسو سے اتنا اب تک ظاہر ہم پہ نہ تھا حرف یار جو منھ سے نکلا ان نے بلا بیتابی کی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR