Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کیا منھ لگے گلوں کے شگفتہ دماغ ہے

کیا منھ لگے گلوں کے شگفتہ دماغ ہے پھولا پھرے ہے مرغ چمن باغ باغ ہے وہ دل نہیں رہا ہے نہ اب وہ دماغ ہے جی تن میں اپنے بجھتا سا کوئی چراغ ہے قامت سے اس کی سرنگوں رہتے ہیں سرو و گل خوبی سے اس کی لالۂ صد برگ داغ ہے یارب رکھیں گے پنبہ و مرہم کہاں کہاں سوز دروں سے ہائے بدن داغ داغ ہے مدت ہوئی کہ زانو سے اٹھتا نہیں ہے سر کڑھنے سے رات دن کے ہمیں کب فراغ ہے گھر گھر پھرے ہے جھانکتی ہر صبح جو نسیم پردے میں کوئی ہے کہ یہ اس کا سراغ ہے صولت فقیری کی نہ گئی مر گئے پہ بھی اب چشم شیر گور کا میری چراغ ہے لگ نکلی ہے کسو کی مگر بکھری زلف سے آنے میں باد صبح کے یاں اک دماغ ہے نابخردی سے مرغ دل ناتواں پہ میر اس شوخ لڑکے سے مجھے باہم جناغ ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR