Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

لے عشق میں گئے دل پر اپنی جان سے

لے عشق میں گئے دل پر اپنی جان سے خالی ہوا جہاں جو گئے ہم جہان سے دل میں مسودے تھے بہت پر حضور یار نکلا نہ ایک حرف بھی میری زبان سے ٹک دل سے آئو آنکھوں میں ہے دید کی جگہ بہتر نہیں مکان کوئی اس مکان سے اول زمینیوں میں ہو مائل مری طرف جو حادثہ نزول کرے آسمان سے یہ وہم ہے کہ آنکھیں مری لگ گئیں کہیں تم مار ڈالیو نہ مجھے اس گمان سے کھل جائیں گی تب آنکھیں جو مرجاوے گا کوئی تم باز نئیں ہو آتے مرے امتحان سے نامہربانی نے تو تمھاری کیا ہلاک اب لگ چلیں گے اور کسی مہربان سے زنبورخانہ چھاتی غم دوری سے ہوئی وے ہم تلک نہ آئے کبھو کسر شان سے تاثیر کیا کرے سخن میر یار میں جب دیکھو لگ رہا ہے کوئی اس کے کان سے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR