Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

بے لطف یار ہم کو کچھ آسرا نہیں ہے

بے لطف یار ہم کو کچھ آسرا نہیں ہے سو کوئی دن جو ہے تو پھر سالہا نہیں ہے سن عشق جو اطبا کرتے ہیں چشم پوشی جانکاہ اس مرض کی شاید دوا نہیں ہے جس آنکھ سے دیا تھا ان نے فریب دل کو اس آنکھ کو جو دیکھا اب آشنا نہیں ہے جب دیکھو آئینے کو تب روبرو ہے اس کے بے چشم و رو اسے کچھ شرم و حیا نہیں ہے میں برگ بند اگرچہ زیر شجر رہا ہوں فقر مکب سے لیکن برگ و نوا نہیں ہے شیریں نمک لبوں بن اس کے نہیں حلاوت اس تلخ زندگی میں اب کچھ مزہ نہیں ہے اعضا گداز ہوکر سب بہ گئے ہیں میرے ہجراں میں اس کے مجھ میں اب کچھ رہا نہیں ہے سن سانحات عشقی ہنس کیوں نہ دو پیارے کیا جانو تم کسو سے دل ٹک لگا نہیں ہے دل خوں جگر کے ٹکڑے جب میر دیکھتا ہوں اب تک زباں سے اپنی میں کچھ کہا نہیں ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR