Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

آزارکش کو اس کے آزار ہے ہمیشہ

آزارکش کو اس کے آزار ہے ہمیشہ آزردہ دل کسو کا بیمار ہے ہمیشہ مختار عشق اس کا مجبور ہی ہے یعنی یک رہ دو چار ہو کر ناچار ہے ہمیشہ کب سہل عاشقی میں اوقات گذرے ہے یاں کام اپنا اس پر اس بن دشوار ہے ہمیشہ عالم کا عین اسی کو معلوم کرچکے ہیں اس وجہ سے اب اس کا دیدار ہے ہمیشہ اس سے حصول مطلب اپنا ہوا نہ ہو گا با آنکہ کام دل کا اظہار ہے ہمیشہ پرواے نفع و نقصاں مطلق نہیں ہے اس کو اس کی تو لاابالی سرکار ہے ہمیشہ ملنا نہ ملنا ٹھہرے تو دل بھی ٹھہرے اپنا اقرار ہے ہمیشہ انکار ہے ہمیشہ آمادئہ فنا کچھ کیا میر اب ہوا ہے جی مفت دینے کو وہ تیار ہے ہمیشہ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR