Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

چاہت میں خوبرویوں کی کیا جانے کیا نہ ہو

چاہت میں خوبرویوں کی کیا جانے کیا نہ ہو بیتاب دل کا مرگ کہیں مدعا نہ ہو بے لاگ عشق بازی میں مفلس کا ہے ضرر کیا کھیلے وہ جوا جسے کچھ آسرا نہ ہو کرتے دعا مجھے وہ دغاباز دیکھ کر بولا کہ اس فقیر کے دل میں دغا نہ ہو آزاد پرشکستہ کو صد رنگ قید ہے یارب اسیر ایسا قفس سے رہا نہ ہو دوری مہ سے کبک ہیں کہسار میں خراب دلبر سے اپنے کوئی الٰہی جدا نہ ہو کھولے ہے آنکھ اس کے گل رو پہ ہر سحر غالب کہ میری آئینے کی اب صفا نہ ہو آہوں کے میری دود سے گھر بھر گیا ہے سب سدھ ہمنشیں لے دل کی کہیں وہ جلا نہ ہو ہم گر جگر نکال رکھیں اس کے زیر پا بے دید کی ادھر سے نظر آشنا نہ ہو رہتے ہیں میر بے خود و وارفتہ ان دنوں پوچھو کنایۃً کسو سے دل لگا نہ ہو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR