Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

آئے ہیں میر کافر ہوکر خدا کے گھر میں

آئے ہیں میر کافر ہوکر خدا کے گھر میں پیشانی پر ہے قشقہ زنار ہے کمر میں نازک بدن ہے کتنا وہ شوخ چشم دلبر جان اس کے تن کے آگے آتی نہیں نظر میں سینے میں تیر اس کے ٹوٹے ہیں بے نہایت سوراخ پڑ گئے ہیں سارے مرے جگر میں آئندہ شام کو ہم رویا کڑھا کریں گے مطلق اثر نہ دیکھا نالیدن سحر میں بے سدھ پڑا رہوں ہوں اس مست ناز بن میں آتا ہے ہوش مجھ کو اب تو پہر پہر میں سیرت سے گفتگو ہے کیا معتبر ہے صورت ہے ایک سوکھی لکڑی جو بو نہ ہو اگر میں ہمسایۂ مغاں میں مدت سے ہوں چنانچہ اک شیرہ خانے کی ہے دیوار میرے گھر میں اب صبح و شام شاید گریے پہ رنگ آوے رہتا ہے کچھ جھمکتا خونناب چشم تر میں عالم میں آب و گل کے کیونکر نباہ ہو گا اسباب گر پڑا ہے سارا مرا سفر میں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR