Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

اس سے گھبرا کے جو کچھ کہنے کو آجاتا ہوں

اس سے گھبرا کے جو کچھ کہنے کو آجاتا ہوں دل کی پھر دل میں لیے چپکا چلا جاتا ہوں سعی دشمن کو نہیں دخل مری ایذا میں رنج سے عشق کے میں آپھی کھپا جاتا ہوں گرچہ کھویا سا گیا ہوں پہ تہ حرف و سخن اس فریبندۂ عشاق کی پا جاتا ہوں خشم کیوں بے مزگی کاہے کو بے لطفی کیا بدبر اتنا بھی نہ ہو مجھ سے بھلا جاتا ہوں استقامت سے ہوں جوں کوہ قوی دل لیکن ضعف سے عشق کے ڈھہتا ہوں گرا جاتا ہوں مجلس یار میں تو بار نہیں پاتا میں در و دیوار کو احوال سنا جاتا ہوں گاہ باشد کہ سمجھ جائے مجھے رفتۂ عشق دور سے رنگ شکستہ کو دکھا جاتا ہوں یک بیاباں ہے مری بیکسی و بیتابی مثل آواز جرس سب سے جدا جاتا ہوں تنگ آوے گا کہاں تک نہ مرا قلب سلیم بگڑی صحبت کے تئیں روز بنا جاتا ہوں گرمی عشق ہے ہلکی ابھی ہمدم دل میں روز و شب شام و سحر میں تو جلا جاتا ہوں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR