Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

سر سے ایسی لگی ہے اب کہ جلے جاتے ہیں

سر سے ایسی لگی ہے اب کہ جلے جاتے ہیں متصل شمع سے روتے ہیں گلے جاتے ہیں اس گلستاں میں نمود اپنی ہے جوں آب رواں دم بہ دم مرتبے سے اپنے چلے جاتے ہیں تن بدن ہجر میں کیا کہیے کہ کیسا سوکھا ہلکی بھی باؤ میں تنکے سے ہلے جاتے ہیں رہتے دکھلائی نہیں دیتے بلاکش اس کے جی کھپے جاتے ہیں دل اپنے دلے جاتے ہیں پھر بخود آئے نہ بدحالی میں بیخود جو ہوئے آپ سے جاتے ہیں ہم بھی تو بھلے جاتے ہیں خاک پا اس کی ہے شاید کسو کا سرمۂ چشم خاک میں اہل نظر اس سے رلے جاتے ہیں گرم ہیں اس کی طرف جانے کو ہم لیکن میر ہر قدم ضعف محبت سے ڈھلے جاتے ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR